The Tale of 12 Needy Individuals and a Loaf of Bread

In the following tale, we delve into a narrative that reflects the essence of compassion, redemption, and the profound impact of a simple act of kindness. This story serves as a timeless reminder of the significance of extending a helping hand to those in need. Once upon a time, in a humble abode, there lived a devout man who dedicated his life to solitary worship and meditation. His unwavering commitment to seeking spiritual solace set him apart from the ordinary folk. This devout man was none other than the revered Hazrat Abu Barda (may Allah’s mercy be upon him).



بارہ 12 مسکین اور ایک روٹی کی کہانی

ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میں لوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھا حضرت سیدنا ابوبردا رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں جب سیدنا ابو موسی رحمت اللہ علیہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رحمت اللہ علیہ نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے پاس بلا کر فرمایا میں تمہیں صاحب الرغیب یعنی روٹی والے کا قصہ سناتا ہوں اسے ہمیشہ یاد رکھنا پھر فرمایا ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میں لوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھا وہ 70 سال تک اسی جھونپڑی میں رہا اس عرصے میں کبھی بھی اس نے عبادت کو ترک نہ کیا اور نہ ہی کبھی اپنی جھونپڑی سے باہر آیا پھر ایک دن وہ جھونپڑی سے باہر آیا تو اسے شیطان نے ایک عورت کے فتنے میں مبتلا کر دیا اور وہ سات دن یا سات راتیں اسی عورت کے ساتھ رہا سات دن کے بعد جب اس کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا تو وہ اپنی اس حرکت پر بہت نادم ہوا اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کر لی اور وہاں سے رخصت ہو گیا وہ اپنے اس فہر پر بہت نادم تھا اب اس کی یہ حالت تھی کہ ہر ہر قدم پر نماز پڑھتا توبہ کرتا پھر ایک رات وہ ایسی جگہ پہنچا جہاں 12 مسکین رہتے تھے وہ بہت زیادہ تھک چکا تھا تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ان مسکینوں کے قریب گر پڑا

ایک راہب روزانہ ان 12 مسکینوں کو ایک ایک روٹی دیتا تھا جب وہ راہب باہر آیا تو اس نے روٹی دینا شروع کر دی اور اس عابد کو بھی مسکین سمجھ کر ایک روٹی دے دی اور ان 12 مسکینوں میں سے ایک کو روٹی نہ ملی تو اس نے راہب سے کہا آج آپ نے مجھے روٹی کیوں نہیں دی راہب نے جب یہ سنا تو کہا میں تو 12 کی 12 روٹیاں تقسیم کر چکا ہوں پھر اس نے مسکینوں سے مخاطب ہو کر کہا کیا تم میں سے کسی کو دو روٹیاں ملی ہیں سب نے کہا نہیں ہمیں تو صرف ایک ایک روٹی ملی ہے یہ سن کر راہب نے اس شخص سے کہا شاید تم دوبارہ روٹی لینا چاہتے ہو جاؤ آج کے بعد تمہیں روٹی نہیں ملے گی جب وہ عابد نے یہ سنا تو اس سے اس مسکین پر ترس آیا چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا رہا اور اسی بھوک کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا جب اس کی 70 سالہ عبادت اور غفلت میں گزری ساتھ راتوں کا وزن کیا گیا تو اللہ تعالی کی نافرمانی میں گزاری ساتھ راتیں اس کی 70 سالہ عبادت پر غالب آگئی پھر جب ان سات راتوں کا موازنہ اس روٹی سے کیا گیا جو اس نے مسکین کو دی تھی اور روٹی ان راتوں پر غالب آگئی اور اس کی مغفرت کر دی گئی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حکایت اس طرح مروی ہے کہ ایک عابد نے 70 سال تک اللہ ازوجل کی عبادت کی پھر اس نے ایک فاحشہ عورت سے گناہ کیا اللہ عزوجل نے اس کے تمام اعمال ضائع کر دیے پھر جب اسے اپنے گناہ کا احساس ہو گیا تو وہ تائب ہو گیا کچھ دنوں کے بعد اسے ایسی بیماری لاحق ہو گئی کہ وہ چلنے پھرنے سے محصور ہو گیا ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک شخص روٹیاں تقسیم کر رہا ہے گرتے پڑتے یہ بھی وہاں پہنچا اور اس نے بھی ایک روٹی حاصل کر لی ابھی اس نے روٹی کھانا شروع بھی نہ کی تھی کہ اس سے ایک مسکین نظر آیا چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا ہی رہا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس کا یہ عمل ایسا مقبول ہو گیا کہ اس کی یہ مغفرت کر دی گئی اور اسے 70 سالہ عبادت کا ثواب بھی لوٹا دیا گیا

کہتے ہیں کہ انسانیت اللہ پاک کا کنبہ ہے جو انسانیت کا دوست وہ اللہ پاک کا دوست اور جو انسانیت کا دشمن وہ اللہ پاک کا دشمن ہے اللہ فرماتا ہے کہ میری ذات ایسی ہے کہ میں زمینوں اور آسمانوں میں نہیں سما سکتا پھر فرماتا ہے کہتا ہے کہ مجھے تلاش کرنا ہو تو مومن کے دل میں تلاش کرو میں وہیں پر رہتا ہوں کیا آپ نے سوچا ہے کہ جب اپٹ کسی کا دل دکھاتے ہیں دراصل میں آ پ اللہ پاک کو ناراض کرتے ہیں اور جب آپ اپنے عمل سے کسی کا دل خوش کرتے ہیں کسی کی مدد کرتے ہیں انسانیت کے کام آتے ہیں انسانوں کا خیال رکھتے ہیں تو اللہ پاک کتنا خوش ہوتا ہوگا کیونکہ وہ اپنے بندوں سے بے تحاشاہ محبت کرتا ہے یقینا نمازوں حج عمرہ اور دیگر عبادات کا بہت بڑا ثواب ہے لیکن اگر اثپ نے کسی کا دل دکھایا اگر اثپ نے اللہ پاک کے انسانوں کا دل دکھایا تو آپ کی تمام تر عبادات ضائع کر دی جائیں گی کیا ہی اچھا ہو کیا آپ عبادت کے ساتھ ساتھ انسانوں کا خیال رکھیں غریبوں مسکینوں کا خیال رکھیں اللہ پاک آپ سے کتنا راضی ہوگا۔



As the time approached when Hazrat Abu Musa (may Allah’s mercy be upon him) departed from this world, he summoned all his sons to his side. He had a profound message to impart to them, one that would resonate through the ages. “I shall narrate to you the story of ‘Sahib al-Raghib,’ the Bread Giver. Remember it always,” he said.

The tale unfolded with the introduction of an ascetic who had secluded himself in a hermitage, diligently engaging in worship for an astonishing seventy years. Throughout this period, he had never once abandoned his devotion or ventured beyond the confines of his dwelling. It was a remarkable display of unwavering commitment.

One fateful day, however, the hermit stepped outside his hermitage. As he emerged from his self-imposed isolation, he encountered a woman who was embroiled in a grave moral dilemma. She had fallen prey to the snares of temptation, ensnared by a wicked temptation, and had spent seven consecutive nights in her company.

Overwhelmed by a sudden rush of remorse, the hermit rushed back to his sanctuary, consumed by deep regret for his actions. He prostrated before Allah in profound repentance, seeking His forgiveness. The gravity of his repentance was matched only by the depth of his remorse. And Allah, in His infinite mercy, accepted his repentance, wiping clean the slate of his past.

With his devotion renewed, the hermit began offering prayers with every step he took. It was a stark departure from the hermit who had secluded himself for seven decades. His transformation was so profound that it captured the essence of his newfound humility and devotion.

One evening, the hermit reached a place where twelve indigent individuals resided. These twelve souls were under the care of a compassionate ascetic who distributed a loaf of bread to each of them daily.

Upon seeing this act of charity, the reformed hermit was deeply moved. He approached the ascetic and requested a loaf of bread for himself. The ascetic, unaware of the hermit’s extraordinary journey, granted his request and offered him a loaf of bread.

The hermit, out of sheer gratitude and humility, approached one of the needy individuals and shared his loaf of bread with them. However, he remained hungry, choosing to forgo his own meal.

The ascetic observed this act of selflessness and approached the hermit, inquiring whether he had received two loaves of bread by mistake. The hermit responded with a simple question, “Have any of you received two loaves of bread today?” All twelve individuals replied in unison, “No, we have received only one loaf each.”

With this confirmation, the hermit continued to fast, and his actions were driven by a deep sense of humility and gratitude for Allah’s mercy. His act of sharing, even in his hunger, was a demonstration of his commitment to the path of righteousness.

The story of “Sahib al-Raghib” or the Bread Giver illustrates the profound impact of a simple act of kindness and the transformative power of genuine repentance. It serves as a reminder that acts of compassion and care for fellow human beings hold a special place in the eyes of Allah. While acts of worship and devotion are undoubtedly important, the human heart, moved by empathy and kindness, can achieve a level of spirituality that transcends rituals.

In conclusion, this story reminds us of the value of humanitarian deeds and how they resonate with the core principles of faith. As the saying goes, “The best among you are those who benefit others.” May we all be inspired by the tale of the Bread Giver to extend our helping hands to those in need, embodying the true essence of compassion and empathy.

Please note that the story is a parable, and its focus is on the moral and spiritual message it conveys rather than a specific historical account.